حدیث · 5351

طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ».

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اصل قوت جسمانی قوت اور طاقت ور لوگوں کو پچھاڑ دینے کی قوت نہیں ہے۔ بلکہ اصل قوت والا انسان وہ ہے، جو غصہ کے وقت اپنے نفس سے لڑے اور اس پر غالب رہے۔ کیوں کہ یہ اپنے اوپر کنٹرول رکھنے اور شیطان پر حاوی ہونے کی دلیل ہے۔

حدیث کے فوائد

  • غصہ کے وقت بردباری برتنے اور اپنے اوپر کنٹرول رکھنے کی فضیلت۔ یہ دراصل ان اعلی اقدار میں سے ہے، جن کی اسلام نے ترغیب دی ہے۔
  • غصے کے وقت اپنے نفس سے لڑنا دشمن سے لڑنے سے زیادہ مشکل ہے۔
  • اسلام نے دور جاہلیت کی قوت کے مفہوم کو اعلی اقدار اور بلند اخلاق میں بدل دیا۔ چنانچہ سب سے طاقت ور انسان وہ ہے، جو اپنے اوپر کنٹرول رکھے۔
  • غصے سے دور رہنا چاہیے، کیوں کہ غصہ فرد اور سماج کے لیے ایک نقصان دہ چیز ہے۔

اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات