حدیث · 8906

یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيًّا قد حُلِق بعض شعر رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: «احلقوه كله، أو اتركوه كله».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ بنا مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود والنسائي في الكبرى

شرح

رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔

لباس اور زیب و زینت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات