حدیث · 65109

جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو کوئی گناہ اسے نقصان نہیں دے گا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو کوئی نیکی اسے…

عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ».

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو کوئی گناہ اسے نقصان نہیں دے گا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو کوئی نیکی اسے فائدہ نہیں دے گی۔»

صحیح ماخذ: رواه أحمد

شرح

نبی ﷺ نے خبر دی کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کو ایک ماننے والا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنتیوں میں سے ہے، اگرچہ اسے اس کے گناہوں کے سبب آگ میں سزا دی جائے۔ اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو شرک کے ہوتے ہوئے اسے کوئی نیکی فائدہ نہیں دے گی اور جنت اس پر حرام ہے۔

حدیث کے فوائد

  • شرک سے متنبہ کرنا کہ یہ عظیم ترین گناہ ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں فرماتا۔
  • توحید کی فضیلت اور یہ کہ وہ جنت میں داخلے کا سبب ہے، چاہے عذاب دیے جانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔
  • توحید پر مرتے دم تک ثابت قدم رہنے، اور اس کی ضد یعنی شرک سے اجتناب کرنے کی اہمیت۔

توحیدِ اُلوہیتتوحید کے فضائل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات