حدیث · 65019

منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُنَافِقِ، كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

"منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافق کی حالت اس بکری کی سی ہوتی ہے جو ہمیشہ تذبذب میں رہتی ہے اور اسے پتہ نہیں ہوتا کہ بکریوں کے کس ریوڑ کے ساتھ رہے۔ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو کبھی اس ریوڑ کی طرف۔ اس طرح منافقین ایمان و کفر کے درمیان حیرانگی وپریشانی کی زندگی گزارتے ہیں۔ نہ وہ ظاہر و باطن سے مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ کافروں کے ساتھ، بلکہ ظاہری طور پر مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور باطنی طور پر شک و تردد کے شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کبھی مومنین کى طرف مائل ہوتے ہیں، تو کبھی کفار کى طرف۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
  • منافقین کی یہ حالت بتائی گئی ہے کہ وہ شک و شبہ اور بے قراری کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
  • منافقوں کی حالت سے دور رہنے کو کہا گیا ہے اور ایمان کے معاملے میں ظاہری وباطنی ہر طرح سے صدق و سچائی اور پختہ عزم وارادہ کی ترغیب دی گئی ہے۔

نفاق

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات