حدیث · 6469

ایک آدمی راستے میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لقد رأيت رجلا يَتَقَلَّبُ في الجنة في شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي المسلمين». وفي رواية: «مر رجل بغصن شجرة على ظهر طريق، فقال: والله لأُنَحِّيَنَّ هذا عن المسلمين لا يؤذيهم، فَأُدْخِلَ الجنة». وفي رواية: «بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فأخَّرَهُ فشكر الله له، فغفر لهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایک شخص کو جنت میں اس وجہ سے گھومتے پھرتے دیکھا کہ اس نے بیچ راہ میں اُگے ایک درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف دے رہا تھا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص کا راہ گزر میں پڑی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا۔ اسے راستے میں ایک شاخ پڑی ہوئی ملی۔ اس نے اسے دور ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدردانی کرتے ہوئے اس کی بخشش کردی“۔

صحیح ماخذ: الرواية الأولى: رواها مسلم. الرواية الثانية: رواها مسلم. الرواية الثالثة: متفق عليها

شرح

نبی ﷺ نے جنت میں ایک آدمی کو گھومتے پھرتے دیکھا اس وجہ سے کہ اس نے ایک ایسے درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دے رہا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دینے کے سبب بخش دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ٹہنی اوپر سے (لٹک کر) ان کے سروں پر لگ کر انہیں تکلیف دے رہی ہو یا پھر نیچے سے ان کے پاؤں کی جانب سے ان کے لیے اذیت کا باعث بن رہی ہو۔ بہرحال اس آدمی نے اسے ایک طرف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

نیک اعمال کے فضائل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات