حدیث · 6336

جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما توطَّنَ رجلٌ مسلمٌ المساجدَ للصلاة والذِّكر، إلا تَبَشْبَشَ اللهُ له، كما يَتَبَشْبَشُ أهلُ الغائب بغائبهم إذا قَدِمَ عليهم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہلِ خانہ خوش ہوتے ہیں“۔

حسن ماخذ: رواه ابن ماجه وأحمد

شرح

مسلمان جو پابندی کے ساتھ مساجد میں نماز اور ذکر کے لیے آتا ہے اور ہمیشہ ایسا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ایسے مسرور اور خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کے آنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ يہاں بشاشت کی صفت کی تاویل شفقت اور رحمت وغیرہ جیسے معانی سے کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کا بغیر تحریف و تعطیل اور بنا تکییف و تمثیل کے اللہ عز وجل کے لیے اثبات کرنا واجب ہے تاہم اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ شفقت و رحمت صفتِ بشاشت کے لوازمات میں سے ہیں۔

توحيدِ اسماء وصفات

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات