حدیث · 5348

کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ».

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا :

”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھا کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسان کسی اچھے کام کو حقیر نہ جانے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس کی حرص ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے مسلمان بھائی کو انسیت ملتی ہے اور اس کے اندر مسرت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • مومنوں کی آپسی محبت اور ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنے کی فضیلت۔
  • اسلامی شریعت ایک مکمل اور جامع شریعت ہے، جس میں مسلمانوں کی خیر و فلاح اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے والی ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔
  • اچھا کام کرنے کی ترغیب، چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔
  • مسلمانوں کو خوش ہونے کا موقع دینا مستحب ہے، کیوں کہ اس سے آپسی محبت پیدا ہوتی ہے۔

اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات