حدیث · 5335
جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“۔
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:
”جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ہر وہ شخص جسے اللہ نے لوگوں کا والی اور ذمے دار بنایا، ولایت چاہے عام ہو، جیسے امیر اور حاکم یا خاص ہو، جیسے ایک مرد یا ایک عورت پر عائد ہونے والی گھر کی ذمے داری، پھر اس نے اپنے ماتحت لوگوں کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کی، ان کو دھوکہ دیا، خیر خواہی سے کام نہیں لیا اور ان کے دینی و دنیوی حقوق کو ضائع کر دیا، وہ اس سخت سزا کا مستحق ہو گیا۔
حدیث کے فوائد
- یہ وعید حکمران وقت اور اس کے کارندوں کے ساتھ خاص نہيں ہے، بلکہ اس کے اندر ہر وہ شخص داخل ہے، جس کے ماتحت کچھ لوگ ہوں۔
- مسلمانوں کی کوئی بھی عوامی ذمے داری قبول کرنے والے پر ان کی خیرخواہی کرنا، امانت ادا کرنے کی کوشش کرنا اور خیانت سے خوف کھانا واجب ہے۔
- کوئی بھی عام یا خاص، چھوٹی یا بڑی ذمے داری قبول کرنے کی اہمیت۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں