حدیث · 5218

رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں نمازِ وتر پڑھی ہے۔ رات کے ابتدائی حصہ میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی اور آپ ﷺ کی وتر سحر تک ختم ہوجاتی۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «من كلِّ الليل أَوْتَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أول الليل، وأوسطه، وآخره، وانتهى وِتْرُهُ إلى السَّحَرِ».

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں نمازِ وتر پڑھی ہے۔ رات کے ابتدائی حصہ میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی اور آپ ﷺ کی وتر سحر تک ختم ہوجاتی۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

عائشہ رضی اللہ عنہا وتر پڑھنے کے حوالے سے رسول اللہﷺ کے بارے میں بتا رہی ہیں کہ آپ رات کو وتر کس وقت پڑھتے تھے۔ وتر پڑھنے میں آپ ﷺ نے کوئی وقت خاص نہیں مقرر کیا تھا بلکہ رات کے پورے حصہ میں وتر پڑھتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں عشاء کی نماز کے بعد اور کبھی اس وقت کے جب اللہ تعالی چاہتا، اور کبھی رات کے درمیانی حصے میں جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہوتا اور کبھی رات کے آخری حصہ میں پڑھتے جب رات دو تہائی گزر چکی ہوتی حتیٰ کہ رات کے بالکل آخری حصے تک چلے جاتے۔

قیام اللیل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات