حدیث · 4963

اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

عن عبد الله بن عباس وأنس بن مالك وعبد الله بن الزبير وأبي موسى الأشعري رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لو أن لابنِ آدمَ واديًا من ذَهَبٍ أَحَبَّ أن يكونَ له واديانِ، ولَنْ يملأَ فَاهُ إلا الترابُ، ويَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ».

عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے“۔

صحیح ماخذ: حديث عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما-: متفق عليه. حديث أنس بن مالك -رضي الله عنه-: متفق عليه. حديث عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما-: رواه البخاري. حديث أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه-: رواه مسلم

شرح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ایک وادی مل جائے تو اپنی طبعی لالچ کی بنا پر وہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دو اور وادیاں ہوں اور یہ کہ تا دم موت وہ دنیا کی چاہت میں گرفتار رہتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے اور اس کا پیٹ اس کی قبر کی مٹی سے بھر جاتا ہے۔

اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاقحبِ دنیا کی مذمت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات