حدیث · 4237

(دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة". وفي رواية: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له». وفي رواية للبخاري: «مَنْ لا خَلَاقَ له في الآخرةِ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم کا لباس مت پہنو، جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“
ایک روایت مین ہے: (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه بجميع روايتيه

شرح

نبی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔

لباس اور زیب و زینت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات