حدیث · 4183
جس کو فاقے میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنی حالت لوگوں سے بیان کرنی شروع کردی تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ جلد…
عبداللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے اور وه لوگوں سے بیان کرے، تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ اسے اللہ کے حضور ظاہر کرے تو اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اسے رزق عطا فرمائے گا“۔
شرح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے“ فاقہ بمعنی سخت حاجت، اس کا اکثر استعمال فقر اور تنگدستی میں ہوتا ہے۔
” اور وه لوگوں سے بیان کرے“ یعنی اس نے لوگوں کے سامنے اپنے فاقے کو بیان کیا اور ان سے از راہ شکوہ بیان کر کے ان سے اس فاقے کو دور کرنے کی مدد مانگی۔
ایسا کرنے سے ”ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا“ یعنی اس کی حاجت ختم نہیں ہوگی اور نہ اس کا فاقہ دور ہوگا، جب کبھی اسی کی کوئی حاجت پوری ہوگی تو دوسری حاجت پیش آئے گی جو اس سے بھی سخت ہوگی۔
”جس نے اسے اللہ کے حضور ظاہر کیا“ یعنی اپنے مولیٰ پر اعتماد کیا۔
اللہ تعالی جلد اسے عنقریب مال عطا کرے گا اور اسے بے نیاز کر دے گا۔
”یا بدیر“ یعنی آخرت میں اسے رزق (ثواب کی شکل میں) دیے گا۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں