حدیث · 3718
ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں…
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حق میں ذلت اور رسوائی کی بد دعا کرتے ہوئے ناک خاک آلود ہونے تک کی بات کہہ ڈالی اور یہ بات تین بار کہی۔ کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ بد دعا آپ کس کے حق میں فرما رہے ہيں؟
آپ نے کہا : جس نے اپنے والد اور والدہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور دونوں کو اپنے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب نہيں بنا سکا۔ کیوں کہ نہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور نہ ان کی فرماں برداری کی۔
حدیث کے فوائد
- والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ضروری ہے۔ ان کی فرماں برداری دخول جنت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں اور کمزوری کی حالت میں۔
- والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔
والدین کی فرماں برداری کے فضائل
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں