حدیث · 3588

مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه النسائي وأحمد

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ پیلو وغیرہ کی شاخ سے دانتوں کو صاف کرنا منہ کو گندگیوں اور بدبو سے پاک کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ اللہ بندہ سے راضی بھی ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ اللہ کی اطاعت گزاری اور اس کے حکم کی تعمیل ہے اور اس سے صفائی ستھرائی بھی حاصل ہوتی ہے، جو اللہ کو پسند ہے۔

حدیث کے فوائد

  • مسواک کرنے کی فضیلت اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی امت کو اس بات کی ترغیب کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کریں۔
  • بہتر یہ ہے کہ انسان پیلو پیڑ کی شاخ سے مسواک کرے، لیکن برش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی اس کے قائم مقام ہوگا۔

فطرتی سنتیں

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات