حدیث · 10014

ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔

عن أُمِّ عَطِيَّةَ رَضي الله عنها، وكَانَتْ بايَعَت النبيَّ صلى الله عليه وسلم، قالت: كُنَّا لا نَعُدّ الكُدرَةَ والصُّفْرَةَ بعدَ الطُّهرِ شيئًا.

ام عطیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، جنھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں :

ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود بهذا اللفظ، ورواه البخاري بدون زيادة (بعد الطهر)

شرح

صحابیہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ عورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں حیض سے پاک ہونے کے بعد فرج سے نکلنے والے سیاہی مائل یا زردی مائل پانی کو حیض نہیں سمجھتی تھیں۔ چنانچہ اس کی وجہ سے نماز اور روزہ نہیں چھوڑتی تھیں۔

حدیث کے فوائد

  • حیض سے پاکی کے بعد، عورت کی شرمگاہ سے جو پانی نکلتا ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، گرچہ اس میں خون سے حاصل ہونے والا گدلہ پیلہ رنگ ہی کیوں نہ ہو۔
  • لیکن اگر حیض اور معمول کے دوران گدلے اور زرد رنگ کا مادہ نکلے، تو اسے حیض ہى سمجھا جائے گا؛ کیونکہ یہ اپنے وقت پر آنے والا خون ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں پانی کی ملاوٹ ہے۔
  • عورت پاک ہو جانے کے بعد آنے والے گدلے اور زرد رنگ کے مادے کی وجہ سے نماز اور روزہ نہيں چھوڑے گی۔ وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے گی۔

حیض، نفاس اور استحاضہ

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات