حدیث · 8965

جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹے گا۔

عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من حَلف فقال: إنِّي بَرِيءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبا، فهو كما قال، وإن كان صَادقا، فَلَنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا».

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا نکلا تو بھی وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹ سکے گا“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود وأحمد والنسائي في الكبرى

شرح

جس نے قسم اٹھائی اور کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے یا پھر اس نے کہا کہ وہ یہودی، عیسائی، کافر اور ملحد ہے، تو اس کا معاملہ دو صورتوں سے خالی نہ ہو گا:

پہلی صورت: اس نے جو قسم اٹھائی اس میں وہ جھوٹا ہو۔ مثلاً وہ قسم اٹھائے کہ اگر ایسا اور ایسا ہے تو میں اسلام سے بری ہوں حالانکہ وہ جو بات بتا رہا ہے اس میں جھوٹا ہو مثلاً اگر اس نے یہ خبر دی کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے اور قسم اٹھائی کہ وہ اگر جھوٹا ہو تو وہ اسلام سے بری ہوجائے یا یہودی، عیسائی یا مشرک ہو جائے حالانکہ اسے بخوبی علم ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا یعنی اسلام سے بری ہوجائے یا پھر یہودی اور عیسائی ہو جائے گا۔

دوسری صورت: اس نے جو بات کہی وہ اس میں سچا ہو۔ مثلا اس نے کہا کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے یا یہ کہ اس نے یہ چیز نہیں کی اور اس پر وہ قسم اٹھائے کہ (اگر ایسا نہ ہو تو) وہ اسلام سے بری ہو جائے یا یہودی یا عیسائی ہو جائے اور وہ جس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اس میں وہ سچا بھی ہو تو اس صورت میں بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ان الفاظ کی وجہ سے اس کے اسلام میں کمی واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ بہت برے اور قبیح الفاظ ہیں۔

قسمیں اور نذریں

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات