حدیث · 8894
مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد…
ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔
شرح
سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔
غلامی وآزادیاسلام میں انسان کے حقوق
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں