حدیث · 8350

جنت میں ایک درخت ہے جس کے نیچے دبلے پتلے تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال بھی چلے گا تب بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکے گا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن في الجنة شجرة يسير الراكب الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السريع مائة سنة ما يقطعها». وروياه في الصحيحين أيضًا من رواية أبي هريرة رضي الله عنه قال: «يسير الراكب في ظلها مئة سنة ما يقطعها».

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے نیچے دبلے پتلے تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال بھی چلے گا تب بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکے گا“۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں ہے کہ سوار اس کے سائے تلے سو سال تک چلے گا لیکن اسے طے نہیں کر سکے گا۔

صحیح ماخذ: حديث أبي سعيد: متفق عليه. حديث أبي هريرة: متفق عليه

شرح

حدیث میں جنت کی کشادگی اور اس میں موجود عظیم نعمتوں کا ذکر ہے بایں طور کہ اس میں جنت کے درختوں اور ان کے سائیوں کا بیان ہے کہ ایک تیر رفتار گھوڑ سوار ان کی کشادگی کی وجہ سے کبھی ان کی انتہاء تک نہیں پہنچ سکے گا۔ یہ بہت بڑا فضل و عنایت ہے جو اللہ نے اپنے متقی بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

جنت و دوزخ کا بیان

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات