حدیث · 8298

رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مسعود میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مرفوعاً: انشقَّ القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فِلْقَتين، فستر الجبل فِلْقَة، وكانت فِلْقَة فوق الجبل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اللهمَّ اشهَدْ».

ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو الگ الگ ٹکڑے ہوئے، ہر ٹکڑا اپنی الگ جگہ پر ہوگیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہ، یعنی اس بات پر کہ میں نے ان کو اپنی نوبت کے سچے ہونے پر دلیل دکھائی۔

خصائص نبوی

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات