حدیث · 7191
اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو اپنے لیے بہتر سمجھے گا۔ ابو نضر (راوی) کہتے ہیں: مجھے…
ابو جہیم بن حارث بن صمّہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو اپنے لیے بہتر سمجھے گا“۔ ابو نضر (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال کہا۔
شرح
نماز پڑھنے والا اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اس سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اور اسے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب اس حالت میں کوئی گزرنے والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مناجات میں انقطاع پیدا کرتا ہے اور نمازی کی عبادت میں خلل ڈالتا ہے۔ اس لئے جو شخص اپنے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسے علم ہو جائے کہ اس کے گزرنے پر کیا گناہ ہوتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کو ترجیح دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے بچنا چاہئے اور اس سے گریز کرنا چاہئے۔ چالیس کے عدد کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس سے مراد دن، یا مہینے، یا سال ہیں؟ تاہم اس مذکور عدد سے مراد حصر کا مفہوم پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس سے مراد ممانعت کی شدت کا بیان ہے۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں