حدیث · 6988

ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے

عن أبي بَرْزَةَ نَضْلَةَ بن عبيد الأَسلمي رضي الله عنه قال: بينما جاريةٌ على ناقة عليها بعض مَتَاعِ القوم، إذ بَصُرَتْ بالنبي صلى الله عليه وسلم وتَضَايَقَ بهم الجبل فقالت: حَلْ، اللهم الْعَنْهَا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تُصَاحِبْنَا ناقةٌ عليها لَعْنَةٌ».

ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکی اونٹنی پر سوار تھی، اس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا، اچانک اس نے نبی ﷺ کی طرف دیکھا، اس وقت لوگوں سے پہاڑ تنگ پڑ گیا تھا۔ چنانچہ اس لڑکی نے کہا:حَلْ (اونٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کلمۂ زجر) اے اللہ! اس پر لعنت فرما! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے، جس پر لعنت کی گئی ہو“۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

ایک کم سن دوشیزہ ایک اونٹنی پر سوار تھی، جس پر کچھ ساز و سامان تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کی وجہ سے پہاڑ تنگ ہو گیا تھا، تو اس نے اونٹنی کی رفتار کو تیز کرنا چاہا۔ اس نے اونٹنی سے کہا: حَلْ (اونٹ کو تیز رفتار کرنے کے لئے کلمۂ زجر) تاکہ تیز رفتاری سے چلنے لگے، پھر اس پر لعنت کر ڈالی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔

گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات