حدیث · 65884
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ حَتَّى يَدْعُوَهُمْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
شرح
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے تھے، جب تک کہ پہلے انہیں اسلام کی دعوت نہ دے دیتے۔ پھر اگر وہ دعوت قبول نہ کرتے تو آپ ان سے قتال کرتے۔
حدیث کے فوائد
- قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا اس صورت میں مشروط ہے جب ان تک اسلام نہ پہنچا ہو۔
- نبی ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اگر وہ انکار کر دیتے، تو آپ ان کے سامنے جزیہ کی پیش کش رکھتے۔ اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے، تو آپ ان سے جنگ کرتے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے۔
- جہاد کی حکمت لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، نہ کہ ان کی جانوں، مالوں اور ملکوں کو تباہ کرنا۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں