حدیث · 65739

جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو پھر فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلَّى اللَّهُ عليْه وسلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إلَّا المَكْتُوبَةُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

’’جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو پھر فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔‘‘

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

نبی ﷺ نے مسجد میں موجود شخص کو فرض نماز کی اقامت کے بعد نفلی نماز شروع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • جب فرض نماز کی اقامت کہی جائے تو نفل نماز پڑھنے کی ممانعت، جبکہ وہ مسجد میں ہو۔
  • نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز شروع کرنے کی ممانعت، خواہ وہ سنتِ راتبہ ہو جیسے فجر اور ظہر کی سنتیں یا کوئی اور نفل۔
  • اگر نفل نماز کے دوران جماعت کھڑی ہو جائے؛ تو اگر ایک رکعت سے کم باقی ہو تو اسے تخفیف کے ساتھ پوری کر لے، ورنہ نماز توڑ دے تاکہ تکبیر تحریمہ کی فضیلت حاصل کر سکے۔

باجماعت نماز کی فضیلت اور اس کے احکام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات