حدیث · 65479

ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ» ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ».

عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

"ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ہر اذان و اقامت کے درمیان نفل نماز ہے۔ اس جملے کو آپ نے تین بار دہرایا۔ تیسری بار آپ نے یہ اضافہ بھی فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے مستحب ہے، جو نماز پڑھنا چاہے۔

حدیث کے فوائد

  • اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا مستحب ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
  • یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" یعنی دونوں چاند اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" یعنی دونوں عمر کہتے ہيں۔
  • اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔

اذان اور اقامتنفل نماز

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات