حدیث · 65371
اللہ کے رسول ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے۔
عَنْ سَفِينَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَسِّلُهُ الصَّاعُ مِنَ المَاءِ مِنَ الجَنَابَةِ، وَيُوَضِّئُهُ المُدُّ.
سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
اللہ کے رسول ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے۔
شرح
اللہ کے نبی ﷺ غسل جنابت ایک صاع پانی سے اور وضو ایک مد پانی سے۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے، اور ایک مد معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر کا ہوا کرتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث وضو اور غسل کرتے وقت پانی بچانے اور اسراف سے بچنے کی مشروعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، چاہے پانی میسر ہی کیوں نہ ہو۔
- مستحب یہ ہے کہ وضو اور غسل کرتے وقت پانی بقدر حاجت اور کم سے کم استعمال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ ہے۔
- اس حدیث کا مقصد وضو اور غسل کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے، پانی کے استعمال میں فضول خرچی اور کنجوسی کیے بغیر، وقت اور پانی کی کثرت وقلت کو دھیان میں رکھتے ہوئے مکمل طور سے وضو اور غسل کرنا ہے۔
- جنابت کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جس نے منی کا انزال یا جماع کیا ہو۔ جنابت کو جنابت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس حالت میں انسان پاک ہو جانے تک نماز اور عبادتوں سے اجتناب کرتا ہے۔
- صاع: ناپنے کا ایک معروف آلہ ہے۔ یہاں مراد صاع نبوی ہے۔ اس کا وزن عمدہ قسم کے گیہوں کا 480 مثقال اور لیٹر میں تین لیٹر ہے۔
- مُد: ایک شرعی ماپ ہے۔ اس سے مراد ایک معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر ہے، جب ان کو بھر کر ہاتھ پھیلا دیا جائے۔ مُد ایک چوتھائی صاع ہے، اس پر تمام فقہا متفق ہیں۔ اس کی مقدار 750 ملی لیٹر ہوا کرتی ہے۔
وضوء کی سنتیں اور آدابغسل کی سنتیں اور آداب
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں