حدیث · 65218
ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ القُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا القُرْآنَ، فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا.
جُندُب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
شرح
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم طاقت ور اور مضبوط، قریب البلوغ نوجوان تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے نبی ﷺ سے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔
حدیث کے فوائد
- ایمان میں کمی و زیادتی کا بیان
- نوجوان نسل کی تربیت کے وقت ترجیحات کا تعین، اور اس بات کی کوشش کہ ان کے دلوں کو ایمان سے آباد کیا جائے۔
- قرآن ایمان میں اضافہ کرتا ہے، اس سے دل منور اور سینہ کشادہ ہوتا ہے۔
قرآن کی قراءت اور اس کے حفاظ سے متعلق آدابایمان کی زیادتی اور کمی
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں