حدیث · 65031

میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ…

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي عَلَى الحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ».

اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہيں کہ قیامت کے دن آپ اپنے حوض پر ہوں گے، تاکہ دیکھیں کہ آپ کی امت کے کون لوگ حوض پر آتے ہیں۔ اس دن کچھ لوگوں کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو قریب آنے سے روک دیا جائے گا، تو آپ فرمائیں گے : اے میرے رب! یہ میرے لوگ اور میری امت کے افراد ہیں! چناں چہ آپ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد انہوں نے کون سے اعمال کیے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے اور اپنے دین سے پھرتے رہے۔ نہ یہ آپ میں سے ہیں اور نہ یہ آپ کی امت کے افراد ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • امت کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور فکر مندی۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و طریقہ کی مخالفت کی سنگینی۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لازم پکڑنے کی ترغیب۔

یومِ آخرت پر ایماناخروی زندگیایمان کے شعبے

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات