حدیث · 64708
تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار…
عن سفينة، قال: كنت مَمْلُوكًا لأم سلمة فقالت: أُعْتِقُكَ وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عِشْتَ فقلت: «وإن لم تَشْتَرِطِي عَلَيَّ، ما فَارَقْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي، واشْتَرَطَتْ عَلَيَّ».
چنانچہ یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت میں سے تھے جن کے جسم کسی عذر یا مرض کی وجہ سے مدینہ میں روک لئے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس عزوہ میں نہ نکل سکے، لیکن وہ اپنے دلوں اور عزم محکم کے ساتھ نکلے، چنانچہ وہ اپنی روحوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی ساتھ تھے اور اپنے وجود کے ساتھ دار الہجرت مدینہ میں۔ اور یہ قلبی جہاد کہلاتا ہے،
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · فارسی
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں