حدیث · 64682
جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرے پھر حکم دے لیکن اجتہاد میں غلطی کر جائے…
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اور اگر حکم دینے کا ارادہ کرے اور صحیح حکم دینے کی پوری کوشش کرے، پھر ناکام ہو جائے تو اس کے لیے اکھرا اجر ہے"۔
شرح
یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ کوئی حاکم جب کسی مسئلے پر اجتہاد کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور سمجھے کہ اس مسئلے میں یہی حق ہے، پھر فیصلہ دے دے، تو اب اگر اس کا فیصلہ صحیح، حق کے موافق ہوا اور اللہ کی منشا کے مطابق ہوا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجتہاد کرنے کا اجر اور دوسرا حق کے موافق فیصلہ کرنے کا اجر۔
لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔
منصبِ قضاء کا حکم اور اس کی فضیلت و اہمیت
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Bahasa Indonesia · فارسی
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں