حدیث · 64646

کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔

عن ابن أبي عَمَّار قال: قلت لجابر: الضَّبْع صَيْدٌ هي؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ: آكُلُها؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ له: أَقَالَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: «نعم».

ابن ابو عمار سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھاوں؟ جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ جواب دیا: ہاں۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد والدارمي

شرح

ابن ابو عمار نامی تابعی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کا شکار کرنا اور اسے کھانا جائز ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں جائز ہے۔ ابن ابو عمار نے جابر رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا کہ کیا یہ فتوی انھوں نے اپنی رائے سے دیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

شکار

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات