حدیث · 6376
جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔
سعد ابن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے“۔
شرح
حدیث میں اس کام کی ممانعت کا بیان ہے جسے زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے یعنی اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کے ساتھ اپنا نسب جوڑ دینا۔ انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے اہلِ خاندان یعنی اپنے باپ، داد اور پردادا وغیرہ کی طرف نسبت کرے اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے حالاں کہ اسے یہ بخوبی علم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔ مثلاً اس کا باپ فلاں قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو اور وہ دیکھے کہ اس قبیلے میں دوسرے قبیلے کے مقابلے میں یہ نقص پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی وجہ سے وہ دوسرے قبیلے کی طرف اپنی نسبت کر لے جو حسب کے اعتبار سے اعلی ہے تاکہ اپنے آپ سے اپنے قبیلے کے عیب کو دور کر سکے۔ ایسا کرنے والے شخص کے متعلق وعید ہے کہ وہ جنت سے محروم رہے گا۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں