حدیث · 6374

بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کی آمد تک خاموش رہنا جائز ہے۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: «لاَ يُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ، وَلاَ صُمَاتَ يوم إلى الليل».

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموش رہنا جائز ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود

شرح

پہلی بات: جب کوئی شخص بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں شمار کیا جائے گا۔

دوسری بات: زمانہ جاہلیت میں لوگ خاموش رہ کر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آدمی سارا دن چپ رہتا اور کوئی بات نہ کرتا یہاں تک کی سورج غروب ہوجاتا۔ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا کیوں کہ اس سے تسبیح و تہلیل، تحمید، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور قرآن کی قراءت وغیرہ جیسے اعمال چھوٹ جاتے ہیں اور اس سے اس لئے بھی منع کیا گیا ہے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا ایک عمل ہے۔

قسمیں اور نذریں

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات