حدیث · 6257
جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:
"جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب دو مسلمان کسی راستے وغیرہ میں ملتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہوئے، تو دونوں کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہيں۔ یاد رہے کہ یہاں الگ ہونے سے مراد جسمانی طور پر الگ ہونا بھی ہو سکتا ہے اور مصافحہ سے فارغ ہونا بھی۔
حدیث کے فوائد
- ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب عمل ہے اور اس کی ترغیب دى گئى ہے۔
- مناوی کہتے ہيں: سنت یہ ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو دائيں ہاتھ کو دائيں ہاتھ پر رکھا جائے۔
- سلام کو عام کرنے کی ترغیب اور ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان بھائی سے مصافحہ کرنے کے عظیم اجر و ثواب کا بیان۔
- اس حدیث سے حرام مصافحہ مستثنی ہے۔ جیسے کسی اجبنی عورت سے مصافحہ کرنا۔
نیک اعمال کے فضائلسلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں