حدیث · 6218

اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أذنَ الله لشيء ما أَذِنَ لنبي حسن الصوت يَتَغَنَّى بالقرآن يجهر به».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اس حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔

ذکر کے فضیلت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات