حدیث · 6041

آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : «ذُكِرَ َالعزل لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ولم يفعل ذلك أحدكم؟ -ولم يقل: فلا يفعل ذلك أحدكم؟-؛ فإنه ليست نفس مخلوقة إلا الله خالقها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر ہوا کہ بعض لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے ساتھ عزل کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے استفہامِ انکاری کے طور پر ان سے اس کے کرنے کا سبب دریافت کیا۔

پھر آپ ﷺ نے انہیں اس کام کے کرنے کی وجہ سے باخبر کیا ایک اطمئنان بخش جواب کی شکل میں جس میں انہیں اس سے روکا گیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اندازے سے مقرر کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے اس طرح کرنے سے وہ انسان رُک نہیں سکتا جس کی تخلیق اور وجود بخشنا اللہ نے لکھ رکھا ہے، وہ اسباب اور مسببات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کی منی سے نطفے کو پیدا کرنا چاہے تو لاشعوری طور پر اس کو اپنی مقرر جگہ لے جاتا ہے۔

ازدواجی زندگی

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات