حدیث · 6005

اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔

عن جابر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنه أراد أن يغزو، فقال: «يا معشر المهاجرين والأنصار، إن من إخوانكم قومًا ليس لهم مال، ولا عشيرة، فلْيَضُمَّ أحدكم إليه الرَّجُلَيْنِ أو الثلاثة، فما لأحدنا مِن ظَهْر يَحْمِلُه إلا عُقْبَة كعُقْبَة». يعني: أحدهم، قال: فضَمَمْتُ إليَّ اثنين أو ثلاثة ما لي إلا عُقْبَة كعُقْبَة أحدهم من جَمَلي.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہم باری باری سوار ہوں“۔ تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود

شرح

مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا کہ دو یا تین لوگ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوں، تاکہ تمام لوگوں کو یکساں سواری کا موقع ملے۔

اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاقسفر کے آداب اور احکام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات