حدیث · 5948

بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔

عن أبي ثَعْلَبَة الخُشَني رضي الله عنه قال: كان الناس إذا نزلوا منزلًا تفرقوا في الشِّعابِ والأَوْدِيَةِ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن تَفَرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأَوْدِية إنما ذلكم من الشيطان». فلم ينزلوا بعد ذلك منزلاً إلا انضم بعضهم إلى بعض.

ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“۔ اس کے بعد جب بھی پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے سے مل جل کر اکٹھے رہتے۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود

شرح

لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔

سفر کے آداب اور احکام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات