حدیث · 5912

اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن عليَّ بنَ أبي طالبٍ رضي الله عنه خَرَجَ من عندِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم في وَجَعِهِ الذي تُوُفِّيَ فيه، فقالَ الناسُ: يا أبَا الحَسَنِ، كيفَ أَصْبَحَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قالَ: أَصْبَحَ بِحَمدِ اللهِ بَارِئًا.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس میں علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہاں سے باہر آئے۔ لوگ پوچھنے لگے: اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے صبح کیسے کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

صحیح ماخذ: رواه البخاري

شرح

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ہاں سے باہرآئے، جب کہ آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا تھے، جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد تھے۔ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ: آج نبی ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ یہ سوال صحابۂ کرام کی نبی ﷺ کےساتھ چاہت و محبت اور آپ ﷺ کےلیے ان کی فکرمندی کی بنا پر تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات