حدیث · 5838

جو شخص ہو بہو اپنا مال کسی آدمی یا انسان کے پاس پا لے جب کہ وہ شخص دیوالیہ قرار دیا جا چکا ہو؛ تو صاحب مال ہی اس کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے.

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من أدرك ماله بعينه عند رجل -أو إنسان- قد أفلس؛ فهو أحق به من غيره».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہو بہو اپنا مال کسی شخص کے پاس پا لے جب کہ وہ شخص دیوالیہ قرار دیا جا چکا ہو تو صاحب مال ہی اس کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

جس نے کسی کو اپنا کوئی سامان بیچا یا پھر اس کے پاس بطورِ امانت رکھوایا یا پھر اسے بطور قرض دیا یا پھر ایسی ہی کوئی اور صورت حال ہوئی اور پھر وہ خریدار دیوالیہ ہو گیا بایں طور کہ اس کا مال اس کے ذمے واجب الاداء رقوم کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو تو اگر اس شخص کو اس دیوالیہ آدمی کے پاس اپنا سامان بعینہ مل جائے تو بائع دوسروں کے مقابلے میں اسے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔

حجر/ مالی تصرف سے روکنا

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات