حدیث · 58241

عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میری براءت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺمنبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو…

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «لما نَزَلَ عُذْرِي، قام النبي صلى الله عليه وسلم على المِنْبَر، فَذَكَرَ ذَاكَ، وتَلَا -تعني القرآن-، فلما نَزَلَ من المِنْبَر، أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ والمرأة فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب میری براءت کے متعلق آیتیں نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیتیں تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔

حسن ماخذ: رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد

شرح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب ان پر لگائے گئے جھوٹے الزام سے برأت کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس کے متعلق مسلمانوں کو اطلاع دی اور منبر پر آپ ﷺ نے قرآن کی ان آیات کی تلاوت فرمائی جو برأت کے لیے نازل ہوئیں تھیں۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے اور بہتان لگانے والے دو مردوں کو لایا گیا، ان میں سے ایک حسان بن ثابت اور دوسرے مسطح بن اثاثہ (رضی اللہ عنہما) تھے اور ایک عورت جو کہ حمنہ بنت جحش (رضی اللہ عنہا) تھی، ان کے جھوٹے ثابت ہونے کی وجہ سے ان پر بہتان کی حد قائم کی گئی(جو کہ اسّی کوڑے ہے)۔

حدِ قذف

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات