حدیث · 58240
اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے…
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اسلمی کو سنگ سار کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا :
"اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔
شرح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ پر زنا کی حد نافذ کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اس گندے کام اور اس طرح کے دیگر گندے کاموں سے بچو۔ لیکن اگر کسی سے اس طرح کا کوئی کام سرزد ہو جائے، تو اس پر دو چیزیں واجب ہيں : 1- چوں کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا ہے، اس لیے اس پردے کو ڈلا ہوا رہنے دے اور کسی کو نہ بتائے۔ 2- فوراً توبہ کر لے اورگناہ پر مصر نہ رہے۔ کیوں کہ جس کا گناہ ہمارے سامنے آ جائے گا، ہم اس پر اللہ کی کتاب میں مذکور اس گناہ کی حد نافذ کریں گے۔
حدیث کے فوائد
- کوئی گناہ ہو جانے پر اسے لوگوں کے سامنے لانے سے بچنے اور چپ چاپ اللہ کے سامنے توبہ کرنے کی ترغیب۔
- گناہ کی اطلاع جب حکمراں کو مل جائے، تو اسے اس کی شرعی حد نافذ کرنی پڑے گی۔
- گناہوں سے بچنا اور ان سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں