حدیث · 58166

ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے۔

عن عمرو بن العاص قال: "لا تُلَبِّسُوا علينا سُنَّةَ نبيِّنا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ، إذا تُوُفِّيَ عنها سَيِّدُهَا أربعة أشهر وعشر".

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت، جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود وابن ماجه ومالك وأحمد

شرح

اس اثر میں جلیل القدر صحابی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو بغیر دلیل وحجت کے اُس ام ولد کی عدت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جس کے مالک کی وفات ہو گئی ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس بارے میں سنت یہی ہے کہ وہ آزاد بیوی کی عدت کی طرح اسی کے برابر چار ماہ دس دن ٹھہرے گی، یہ اثر اگرچہ اپنے مفہوم میں صراحت سے دلالت کرتی ہے مگر اکثر علماء نے دوسرے دلائل کی بنا پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ متوفیٰ عنہا ام ولد کی عدت بقیہ لونڈیوں کی طرح ایک حیض ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔

عدت سے متعلق احکام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات