حدیث · 58119

میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

عن أبي جُحَيْفَة رضي الله عنه قال: كنتُ عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده: «لا آكُلُ وأنا مُتَّكِئ».

ابوجُحَیْفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا"۔

صحیح ماخذ: رواه البخاري

شرح

ابو جحیفہ وھب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ، اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ طریقہ نہیں تھا کہ آپ ٹیک لگا کر اس طرح کھائیں کہ کسی تکیہ یا تکیہ لگانے کی کوئی اور چیز کا سہارا لیے اپنے ایک پہلو پر ٹیک لگائیں یا اس طرح کہ اپنا ایک ہاتھ زمین پر رکھیں اور اسی پر ٹیک لگائیں بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اس طرح کی بیٹھک سے بچا کرتے تھے کیونکہ یہ حالت و کیفیت، بسیارخوری وخوب کھانے کی موجب بنتی ہے اور زیادہ کھانا، سستی وبوجھل پن اور چستی کا خاتمہ کرنے والی چیز ہے، نیز بسیار خوری کے جسمانی صحت پر مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ ٹیک لگا کر کھائے گا تو کھانے کی گزرگاہ، سیدھی رہنے کے بجائے ایک جانب ہوجائے گی اور وہ اپنی فطری حالت میں نہ رہے گی بلکہ بسااوقات اس کی وجہ سے بھاری نقصان کا سامنا ہوتا نیز یہ کہ کھانے کے دوران ٹیک لگانا، ان حالتوں میں سے ہے جو تکبر پر دلالت کرتی ہیں اور تواضع و انکساری کے منافی ہوتی ہیں۔

کھانے پینے کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات