حدیث · 58103

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اپنی بیویوں کے لیے آپ ﷺ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم : كم كان صَداقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: «كان صَدَاقُهُ لأزواجه ثِنْتَيْ عشرة أُوقِيَّةً ونَشَّاً»، قالت: «أتدري ما النَّشُّ؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أُوقِيَّةٍ، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه».

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺکی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، بایں ہمہ یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ ﷺکا مہر تھا۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

حدیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔

ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔

حق مہر

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات