حدیث · 5793
کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے، سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے۔
ابو امامہ ایاس ابن ثعلبہ انصاری حارثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دن آپ ﷺ کے پاس دنیا کا ذکر کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے، سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے آپﷺ کی مراد تکلفات اور زیب وزینت کی چیزوں کو ترک کرنا ہے۔
شرح
نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے ہو؟“ یعنی سنو، تاکید پیدا کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے اسے دہرایا۔ لباس اور زیب وزینت میں تواضع اختیار کرنا اہلِ ایمان کے اخلاق کا ایک جزء ہے جس کا سبب ایمان ہی ہوا کرتا ہے۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں