حدیث · 5772

میں نے رسول ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطورِ تحفہ پیش کیا۔

عن الصعب بن جَثَّامَةَ رضي الله عنه ، قال: أهديتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - حماراً وحشياً، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فلما رأى ما في وجهي، قال: «إنا لم نَرُدَّهُ عليك إلا لأنَّا حُرُمٌ».

صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا تحفے کے طور پر پیش کیا تو آپ ﷺ نے وہ مجھے واپس کردیا۔ جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ملال کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم تمہیں یہ واپس نہ کرتے لیکن بات یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

نبی ﷺ کے اخلاق حسنہ میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے دین کے بارے میں لوگوں سے مداہنت نہیں برتتے اور ان کی دلجوئی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چنانچہ نبی ﷺ کا گزر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے۔ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بہت تیز بھاگنے والے اور ماہر تیر انداز تھے۔ جب نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک جنگلی گدھے کو آپ ﷺ کے لیے شکار کیا اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ پر یہ بات گراں گزری کہ نبی ﷺ نے ان کا ہدیہ کیوںکر واپس کر دیا؟ ان کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کا چہرہ دیکھا تو ان کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ نے ان کا تحفہ صرف اس لیے واپس کر دیا ہے کیونکہ وہ حالت احرام میں ہیں اور محرم شخص اس شکار کو نہیں کھا سکتا جو اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔

ہبہ اور عطیہمحظوراتِ احرام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات