حدیث · 5508
میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات…
جويریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“ اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
شرح
ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کی نماز پڑھنے کے لیے ان کے پاس سے باہر نکلے اور چاشت کے وقت واپس آئے تو دیکھا کہ وہ اللہ تعالی کا ذکر ہی کر رہی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے ان کے پاس سے چلے جانےکے بعد چار کلمات پڑھے ہیں اور اگر ان کا مقابلہ ان سب کلمات سے کیا جائے جو انہوں نے صبح سے پڑھی ہے تو وہ اجر کے اعتبار سے ان کے برابر ہو جائیں یا ان سے بھی زیادہ وزنی ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ نے ان کلمات کی وضاحت فرمائی کہ وہ یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“۔
یعنی اتنی زیادہ تسبیح جو اس کی مخلوق کے بقدر ہو جس کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اتنی عظیم تسبیح جو اللہ کو راضی کردے اور اتنی بھاری تسبیح جو عرش کے وزن کے برابر ہو اگر عرش کوئی محسوس ہونے والی شے ہوتا اور ایسی تسبیح جو ہمیشہ جاری رہے اور جس میں کبھی انتقطاع نہ آئے۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں