حدیث · 5501
اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا،…
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستوں ميں بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولﷺ! ان مجلسوں کے بغیر تو چارہ نہیں کیوں کہ ہم انہی میں ہی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
شرح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو راستوں میں بیٹھنے سے ڈرایا۔ وہ کہنے لگے کہ اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر تم نہیں رکتے اور تمہارے بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں تو پھر تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم راستے کو اس کا حق دو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ راستے کا حق یہ ہے کہ وہ ان عورتوں سے اپنی نگاہیں پست رکھیں جو ان کے سامنے سے گزرتی ہیں، راہ گیروں کو قول و فعل کے ذریعے سے ایذاء نہ دیں، جو انہیں سلام کرے اس کے سلام کا جواب دیں، اچھی بات کی تلقین کریں اور اپنے سامنے جب کوئی برا کام ہوتے دیکھیں تو اس صورت میں ان پر واجب ہے کہ وہ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کریں۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں