حدیث · 5492

وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر نہیں کرتا۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المؤمن الذي يخالط الناس، ويصبر على أذاهم خير من الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر نہیں کرتا“۔

صحیح ماخذ: رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد

شرح

اس حدیث میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان سے میل جول بڑھانے کی فضیلت کی دلیل ہے۔ بلاشبہ وہ مومن جو لوگوں کےمسائل کے تئیں انہماک کے ساتھ سرگرم عمل رہتا ہے، ان کے ساتھ میل جول اختیار رکھتا ہے اور اور انھیں نصیحت کرنے اور درست راہ دکھانے میں لاحق مصائب پر صبر و تحمل کا مظاہر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھتا، بلکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہتا ہے اور ان سے گوشۂ تنہائی کو ترجیح دیتا ہے یا انفرادی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔

مسلم معاشرہ

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات