حدیث · 5474
اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔
عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی سخت جھگڑا لو قسم کے شخص سے نفرت کرتا ہے، جو حق بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا ہو اور اسے اپنی بحث سے نکارنے کی کوشش کرتا ہو یا پھر جھگڑتا تو حق بات کے لیے ہو، لیکن جھگڑتے وقت حدّ اعتدال کو پارکر جاتا ہو اور بلا علم بحث کرتا ہو۔
حدیث کے فوائد
- مظلوم شخص کا شرعی طریقے سے عدالت میں جاکر اپنا حق مانگنا مذموم جھگڑے کے دائرے میں نہیں آتا۔
- بحث ومباحثہ اور جھگڑا زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت ہے، جو مسلمانوں کے بیچ افتراق و انتشار کا سبب بنتا ہے۔
- بحث اگر حق کے لیے کی جائے اور اس کا طریقہ اچھا ہو، تو قابل تعریف ہے۔ لیکن اگر حق بات کو دبانے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے کی جائے، یا پھر بنا کسی دلیل کے کی جائے، تو قابل مذمت ہے۔
فضائل و آداباخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں